Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 ہوم > سوالات > اسلام کے سیاسی احکامات
مینو << واپس قرطاس موضوعات نئے سوالات سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سوال پوچھیے  

کیا ایک مسلمان حکمران کو ویٹو کا حق حاصل ہے؟
سوال پوچھنے والے کا نام Administrator
تاریخ:  17 جنوری 2005  - ہٹس: 3430


سوال:
- درج ذیل آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک مسلمان حکمران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شوری کی رائے کو ویٹو کر سکتا ہے اگر وہ ایسا چاہے-آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

فاعف عنہم واستغفر لھم و شاورھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ ان اللہ یحب المتوکلین(3-159)

ان سے درگزر کیجیے اور (ریاست) کے معاملات میں ان سے مشورہ لیتے رہیے -پھر جب آپ رائے پختہ کر لیں تو اللہ تعالی پر اعتماد کیجیے - بے شک اللہ ایسے اعتماد کرنے والوں کو پسندکرتا ہے-


جواب:
میرا خیا ل ہے کہ اس آیت سے آپ کا استنبا ط درست نہیں-قرآن ایک منظم و مرتب کتاب ہے اور اس کی ہر آیت ایک خاص سیاق میں بات کرتی ہے اگر اس سیاق و سباق کو مد نظر نہ رکھا جائے تو اس کا قوی امکا ن ہوتا ہے کہ انسان کسی غلط نتیجے تک پہنچ جائے ایسا نتیجہ جو قرآن کا منشا ہی نہ ہو-اگر ہم آیت3-159 کے سیاق کومد نظر رکھیں تو معلو م ہوتا ہے کہ یہ آیت آیتوں کے اس جھرمٹ میں موجود ہے جن میں جنگ احد ‘ اس کے ما بعد اثرات اور اس ضمن میں منافقین کا رویہ زیر بحث لایا گیا ہے-اور جیسا کہ ہم قرآن کی روسے جانتے ہیں کہ منافقین کو اپنارویہ درست کرنے کے لیے ایک خاص مدت کی مہلت دی گئی تھی-اور جب یہ مہلت ختم ہو گئی تو پھر ان سے سختی سے نبٹا گیا جیسا کہ بعض اور آیات سے واضح ہے-مثلا
یا ا یھا النبی جاھد الکفار والمنافقین واغلظ علیھم و ماواھم جھنم وبئس المصیر(9-66)
اے نبی کفار اور منافقین سے جہاد کیجیے اور ان پر سختی کیجیے ان کا ٹھکانہ جھنم ہے اور وہ بر ی جگہ ہے -

جنگ احد کے وقت منافقین کی مہلت کی مدت ابھی چل رہی تھی-چنانچہ اس وقت مناسب نہ تھا کہ انہیں بالکل الگ کر دیا جاتا-اسی لیے نبی سے یہ کہاگیا کہ ان سے معاملات میں مشور ہ لیتے رہیے البتہ آپ ان کی اکثریت کی رائے کے پابند نہیں ہیں-اگر آپ ان کی رائے کے برعکس فیصلہ کر لیتے ہیں تو آپ کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے-یہ وہ اصل سیاق وسباق ہے جس کے پس منظر میں یہ آیت کلام کررہی ہے-اس آیت کا بنظر غائر مطالعہ بھی یہی ظاہر کرتا ہے اور تاریخی حقائق سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ اس جنگ سے قبل نبی نے مشورہ کیا کہ آیا دشمن کا مقابلہ شہر کے اند ررہ کر کیا جائے یا شہر سے باہر نکل کر-منافقین کی رائے شہر کے اندر رہ کر مقابلہ کرنے کی تھی جب کہ مخلص مسلمانوں کی اس کے برعکس تھی-معلوم یہ ہوتا ہے کہ نبی کی رائے بھی مخلصین کے مطابق تھی - چنانچہ جب آپ نے اورمسلمانوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ دشمن کا مقابلہ شہر سے باہر نکل کر کیا جائے گا تومنافقین اس پر ناراض ہوئے اور انہوں نے اپنی ناراضی کا اظہار کئی طریقوں سے کیا-مثلا عبداللہ بن ابی عین جنگ سے قبل اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ یہ کہہ کر الگ ہو گیا کہ آپ نے اس کا مشورہ کیوں نہیں مانا-منافقین کا دوسرا گروہ جو جنگ میں شریک رہا اس نے جنگ کے بعد یہ پراپیگنڈہ کر نا شروع کیا کہ مسلمانوں کو شکست اصل میں غلط حکمت عملی اختیا رکرنے سے اور ان کی بات نہ ماننے کی وجہ سے ہوئی ہے-آیات 3-8‘156 اس بات کو ان الفاظ میں بیا ن کرتی ہیں-
یا ایھأ الذین آمنوا لا تکونوا کالذین کفروا وقالوا لاخوانھم اذا ضربوا فی الارض او کانوا غزی لو کانوا عندنا ما ماتوا و ما قتلوا لیجعل اللہ ذلک حسرة فی قلوبھم واللہ یحی و یمیت و اللہ تما تعملون بصیر ولئن قتلتم فی سبیل اللہ او متم لمغفرة من اللہ و رحمة خیر مما یجمعوں و لئن متم او قتلتم لا الی اللہ تحشرون ( 3- 8‘156)
اے ایمان والو تم ان لوگوں میں سے مت ہو جاناجو کہ کافر ہیں اور کہتے ہیں اپنے بھائیوں کی نسبت جب کہ وہ لوگ کسی سر زمین میں سفر کرتے ہیں یا وہ لوگ کہیں غازی بنتے ہیں کہ اگر یہ لوگ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے او رنہ مارے جاتے تا کہ اللہ تعالی اس بات کو ان کے قلوب میں موجب حسرت کر دیں اور مارتا اور جلاتا تو اللہ ہی ہے اور اللہ تعالی جوکچھ تم کرتے ہو سب کچھ دیکھ رہے ہیں-او ر اگر تم لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائو یا مرجائو تو بالضرور اللہ تعالی کے پاس کی مغفرت ان چیزوں سے بہتر ہے جن کو یہ لوگ یہ جمع کر رہے ہیں-اور اگر تم لوگ مر گئے یا مارے گئے تو بالضرور اللہ ہی کے پاس جمع کئے جائو گے -
چنانچہ ان یات سے واضح ہوتا ہے کہ نبی کو بحثیت نبی یہ کہا گیا تھا کہ وہ منافقین سے ایک خاص سلوک روا رکھیں- یہی منشا یت 3- 159 کا ہے-فنی زبان میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ شاورھم میں ھم کی ضمیر کا مرجع منافقین ہیں- اس یت کا اطلاق بعد کے زمانوں میں درست نہیں کیونکہ ان منافقین کا ج کوئی وجود نہیں-


Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email


Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker