Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 ہوم > سوالات > سیاسی مسائل
مینو << واپس قرطاس موضوعات نئے سوالات سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سوال پوچھیے  

اسلامی ریاست کا قیام
سوال پوچھنے والے کا نام Jan Muhammad
تاریخ:  11 مئ 2005  - ہٹس: 1885


سوال:
فی زمانہ ایک اسلامی ریاست کا قیام کس طرح عمل میں لایا جا سکتا ہے؟ اس کے لئے کیا حکمت عملی ہونی چاہیے؟

جواب:
اسلامی ریاست کے قیام کی کیا حکمت عملی اور کیا طریق کار ہونا چاہیے ، اسلام نے اس سلسلہ میں ہدایات دینے کے بجائے یہ معاملہ عقل و شعور اور انسانی تجربے پر چھوڑ دیا ہے۔ جغرافیائی مسائل ، تہذیبی تغیرات ، اور زمانی تفاوت انسانی معاشروں میں بھی ایک تفاوت پیدا کر دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے ہر قوم اور ہر معاشرے کے حالات ایک دوسرے سے مختلف ہوجاتے ہیں۔ اس لئے ہر جگہ ایک ہی کلیہ کا اطلاق ممکن نہیں رہتا۔ اس صورت حالات میں میں کسی تفصیلی جواب دینے سے تو معذور ہوں البتہ ایک امر کی وضاحت ضروری خیال کرتا ہوں۔ ہمارے ہاں علماء عام طور سے یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی نے اسلامی ریاست کے قیام کے لئے ایک خاص طریق کار اختیار کیا تھا اس لئے ہمیں بھی وہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ لیکن اس کے برعکس میرا خیال یہ ہے کہ اسلامی ریاست کا قیام نبی کے پیش نظر ہی نہ تھااور نہ ہی اللہ تعالی کی طرف سے آپ اس پہ مامور تھے۔ اس نظریے کے موید علماء کا یہ کہنا ہے کہ ہر ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تمام ذرائع و وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس دھرتی پر غلبہ اسلام کی جدو جہد کرے۔ اور وہ اسلامی انقلاب کا نام دیتے ہیں اور اس کی دلیل مندرجہ ذیل آیت سے لاتے ہیں۔ "وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ اتا کہ وہ اسے غالب کر دے تمام ادیان پر اور چاہے مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ علی الدین کلہ کے الفاظ کی بنیاد پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں اور ممالک میں اسلام کے غلبے کی کوشش کریں۔ جبکہ اگر اس آیت کے سیاق و سباق پر غور کیا حائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا تعلق رسولوں کے بارے میں اللہ کی اس سنت سے ہے جس کے تحت غلبہ رسولوں کا مقدر ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی قوم پر ہمیشہ فتح پاتے ہیں۔ جیسا کہ آیت 58: 20-21 سے ظاہر ہے۔ "ے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں یہی لوگ ذلیل ہونے والے ہیں اللہ نے یہ لکھ رکھا ہے کہ وہ اور اس کے رسول ہی غالب رہیں گے۔ بے شک اللہ ہی قوت والا اور غلبے والا ہے۔"

نبی کو بھی یہ خبر دی گئی تھی کہ آپ اپنی قوم پر غالب رہیں گے آپ اور آپ کے صحابہ کو یہ کہا گیا تھا کہ انہیں اسلام کے غلبے تک مشرکین عرب سے جنگ کرنا ہوگی اور مشرکین سے یہ کہا گیا تھا کہ اگر وہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو انہیں بھی اسی انجام سے دو چار ہونا پڑے گا جس کے ساتھ کہ دوسرے رسولوں کی اقوام کو دوچار ہونا پڑا۔ جیسا کہ آيت 8: 38-39 میں کہا گیا کہ "ان کفر کرنے والوں سے کہہ دو کہ اگر یہ باز آجائیں تو جو کچھ ہو چکا ہے وہ معاف کر دیا جائے گا اور اگر وہ پہر یہی کریں گے تو اگلوں کے باب میں سنت الہی گزر چکی ہے اور ان سے جنگ کرو تانکہ فتنہ کا قلع قمع ہو جائے اور سارا دین اللہ کا ہو جائے۔

غور فرمائیں کہ ان آیات میں لفظ المشرکین استعمال ہوا ہے قرآن اس لفظ کو نبی کے زمانے کے مشرکین عرب ہی کے لئے استعمال کرتا ہے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آیت میں بعد ازاں جو لفظ الدین کلہ استعمال ہوا ہے وہ بھی نبی کے زمانے کے ادیان عرب کے لئے خاص ہے۔ اس لئے اس آیت کا اطلاق نبی کے بعد کے زمانوں پر کرنا صحیح نہیں ہے۔ اگر مندرجہ بالا توجیہہ کو صحیح مان لیا جائے تو پھر اس سے یہ منطقی نتیجہ نکلتا ہے کہ غلبہ اسلام کی جدوجہد کرنا مسلمانوں کی مذہبی ذمہ داری نہیں ہے اس بات سے یہ اخذ کرنا بھی درست نہ ہو گا کہ مسلمان اسلام کے غلبہ کی جدوجہد نہ کریں عرض کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ دین ان پر ایسی کوئی ذمہ داری عائد نہیں کرتا۔ وہ آیات جن سے یہ ذمہ داری برآمد کی گئی ہے ان کا تعلق اللہ کے رسولوں کے بارے میں اللہ تعالی کی مسلمہ سنت سے ہے۔


Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email


Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker