Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 ہوم > سوالات > اخلاقیات
مینو << واپس قرطاس موضوعات نئے سوالات سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سوال پوچھیے  

والدین کی نافرمانی کے حدود
سوال پوچھنے والے کا نام Nadeem Ahmad
تاریخ:  31 دسمبر 2005  - ہٹس: 1315


سوال:
شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ والدین کی نافرمانی ہے ، اس کے کیا حدود ہیں ؟

جواب:
اگر وہ آپ کو ایسی بات کہتے ہیں کہ جو دین کے خلاف ہے ، تو آپ ان کی بات معذرت کے ساتھ رد کر سکتے ہیں، باقی معاملات میں نافرمانی کی معقول وجہ ہونی چاہیے۔ خدا کے بعد سب سے بڑا حق والدین کا ہے۔ اللہ تعالی اپنی عبادت کا حکم دیتے ہیں اس کے فوراً بعد کہتے ہیں وبالوالدين احسانا۔ مشرک اور بے دین والدین کے بارے میں بھی حکم ہے کہ دنیا کے معاملات میں ان کے ساتھ بالکل دستور کا ، نیکی کا تعلق رکھا جائے۔ہر حال میں ان کی عزت کی جائے گا ان کا احترام کیا جائے گا۔ اصل میں تو والدین کی فرمانبرداری ہی ہونی چاہیے جب تک کہ نافرمانی کی ٹھوس وجہ نہ ہو اور یہ ٹھوس وجہ آپ کو اللہ کے ہاں ثابت کرنا ہوگی۔ ہوسکتا ہے جو یہاں ٹھوس ہو وہاں وہ ریت ثابت ہو۔ اس لیے اس احساس کے ساتھ والدین سے معاملہ کرنا چاہیے کہ ہم اس کے بارے میں ایک ایسی ذات کو جوابدہ ہیں جو دلوں کے بھید جانتی ہے اور اعمال کے محرکات تک سے باخبر ہے۔ اگر والدین کوئی حکم اللہ یا اللہ کے رسول کے خلاف دے دیں تو نافرمانی ہو سکتی ہے۔ وہ کوئی ایسی بات کہتے ہیں کہ جس کا آپ کی زندگی پر برا اثر پڑ سکتا ہے اور والدین خواہ مخواہ اس پر اصرار کر رہے ہیں ، تو شائستگی کے ساتھ معذرت کی جاسکتی ہے لیکن عام حالات میں تو ان کی فرمانبردار ی ہی ہونی چاہیے ۔

Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email


Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker