Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 ہوم > سوالات > قرآن
مینو << واپس قرطاس موضوعات نئے سوالات سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سوال پوچھیے  

کیا اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے
سوال پوچھنے والے کا نام Anonymous
تاریخ:  16 جولائی 2007  - ہٹس: 1456


سوال:
قرآن کی آیت "اليوم اکملت لکم دينکم" کے حوالے سے یہ بات پوچھنی ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے تو اسلام کا نظام ہے کہاں؟ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اسلام کو مکمل کر دیا لیکن یہ مکمل شکل میں کہاں دیکھا جا سکتا ہے ؟

جواب:
میرے عزیز ! پہلے تو چند غلط فہمیاں ہیں جن کا دورکرنا ضروری ہے۔ یہ آیت جو آپ نے پڑھی ہے اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ اسلام کوئی مکمل ضابطہ حیات ہے ، اس میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے رسول اللہ پر جس دین کا نزول شروع کیا تھا خواہ اس کے دس رکن تھے یا پانچ، وہ آج پورے ہو گئے۔ حضور پر کوئی نیا دین نازل نہیں ھوا تھا وہی دین جو تمام انبیا کا تھا اسی کا تسلسل تھا اسی کے بارے میں یہ بتایاجا رہا ہے کہ یہ آج پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔ دوسری جو غلط فہمی ہے وہ یہ ہے کہ کہ اسلام شاید ایک نظام حکومت کا نام ہے اسلام تو ایک فرد کے بندے کے ساتھ تعلق کا نام ہے ، آپ نے بحیثیت فرد کے اپنے مالک کو مالک مان لیا یہ اسلام ہے- جب میں توحید کو اپناتا ہوں تو اس کے لیے کسی نفاذ کی ضرورت ہے ؟ جب میں برائیوں سے اجتناب کرتا ہوں اخلاقی حدود کی پابندی کرتا ہوں تو اس کے لیے کسی حکومت کی ضرورت ہے ؟ جب میں خورو نوش کے آداب میں حرام کھانے سے بچتا ہوں تو اس کے لیے کسی حکومت کی ضرورت ہے ؟ البتہ اسلام میں چند احکام حکومت سے متعلق بھی ہیں وہ حکومتوں کو پورے کرنے چاہیے۔ باقی سارے کا سارا دین وہ فرد سے متعلق ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ دنیا میں کوئی دور ایسا نہیں جب لوگ اس پر عمل پیرا نہ ہوں۔ اس وقت بھی دنیا میں لاکھوں کروڑوں لوگ ہیں جو بغیر کسی حکومت کے اللہ کے دین پر عمل پیرا ہیں۔ وہ لوگ جو ایسی جگہوں پر رہتے ہیں جہاں مسلمانوں کی حکومتیں نہیں ہیں تو وہاں کیا وہ دین چھوڑ بیٹھے ہیں ، وہ نماز پڑھتے ہیں ، روزے رکھتے ہیں ، وہ اللہ کے حدود کا احترام کرتے ہیں اور سارے احکام پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ تو اس بات کو بہت اچھی طرح سمجھ لیں کہ اسلام درحقیقت فرد کے اندر پاکیزگی پیدا کرنے کی دعوت ہے اور اس میں وہ پوری طرح کامیاب ہے اور ہمیشہ سے موجود ہے اور پوری شان کے ساتھ اب بھی افراد کو متاثر کررہاہے۔ اور اس اسلام کو کچھ نہیں ہوا۔یہ اب بھی بغیر کسی مادی قوت کے دلوں میں اترتا ہے۔ یہ اب بھی انسان کے پورے وجود کا احاطہ کر لیتا ہے اور اب بھی ہزاروں سینکڑوں لوگ پیدا کرتا ہے جو اپنا سب کچھ اس کے لیے چھوڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں حتی کہ مرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ تو اسلام کو اس کی دعوت کی حوالے سے دیکھیے ، سیاست تو اس کا ایک جزو ہے۔ کہیں اس پر عمل ہو گیاتو اچھی بات اور نہ ہوا تو فرد کو کیا فرق پڑتا ہے۔

جاوید احمد غامدی
ترتیب و تہذیب، عمر فاران بخاری


Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email


Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker