Powered by
UI
Techs
Get password?
Username
Password
ہوم
>
سوالات
>
متفرقات
مینو
<< واپس
قرطاس موضوعات
نئے سوالات
سب سے زیادہ پڑھے جانے والے
سوال پوچھیے
سرکش رویہ
سوال پوچھنے والے کا نام Anonymous
تاریخ:
15
مئ
2008
- ہٹس: 668
سوال:
سرکش رويے سے کیا مراد ہے، ایک ناجائز کام ایک شخص سے بار بار سرزد ہو جاتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ حرام ہے، کیا یہ سرکشی ہے؟
جواب:
'سرزد ہو جاتا ہے'، ان الفاظ پر غور کیجيے۔ یعنی جذبات کے غلبے میں آدمی خود پر قابو نہیں پاسکا، لیکن وہ خدا سے ڈرتا تھا اور چاہتا تھا کہ یہ صورتحال پیدا نہ ہو لیکن پھسل گیا۔ یہ سرکشی نہیں ہے، اس کے بعد ایسا آدمی نادم ہوگا اور فوراً رب کی طرف رجوع کرے گا، معافی مانگے گا۔ اور اللہ تعالی نے قرآن میں کہا ہے کہ جب کوئی آدمی اس طرح جذبات کے غلبے میں آکر کوئی گناہ کر لیتا ہے اور فوراً معافی مانگ لیتا ہے تو اللہ نے لازم کر رکھا ہے کہ اس کی توبہ کو قبول کرے۔ یہ خدا کی بڑی رحمت اور بڑا کرم ہے لیکن آدمی اگر منصوبہ بندی کر رہا ہو کہ گناہ کرکے معافی مانگ لوں گا تو یہ سرکشی ہے۔ ایک چیز ہے کہ انسان سے ہوگئی اور ایک چیز ہے کہ وہ کرنے پر مصر ہوگیا۔ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔
Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email
Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share
|
Copyright
Studying-Islam
© 2003-7 |
Privacy Policy
|
Code of Conduct
|
An Affiliate of
Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top