Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 ہوم > سوالات > معاشرتی مسائل
مینو << واپس قرطاس موضوعات نئے سوالات سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سوال پوچھیے  

عورت کے لیے اسلامی رہنما اصول
سوال پوچھنے والے کا نام .
تاریخ:  15 جولائی 2009  - ہٹس: 1249


سوال:
اسلام عورت کے کردار کے حوالے سے کون سے رہنما اصول پیش کرتا ہے؟

جواب:
اللہ تعالیٰ کی شریعت میں چند چیزیں اس معاملے میں زیرِ بحث آئی ہیں۔ ایک یہ بات زیر بحث آئی ہے کہ عورتوں اور مردوں کو جب کبھی ملنا پڑے، خواہ وہ گھروں میں ہوں، خواہ باہر ہوں تو انھیں کن آداب کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ وہ آداب سورۂ نور میں بیان ہوئے ہیں کہ خواتین اور مردوں کو کس طریقے سے اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنی چاہیے، اپنی نگاہیں کس طرح رکھنی چاہییں، ان میں کیسی حیا ہونی چاہیے۔ عورتوں کے لیے مزید ایک بات یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے سر کی اوڑھنیاں اپنے سینے پر بھی اچھی طرح لے لیں اور اپنی زینتوں کی نمائش نہ کریں۔ یہ مردوں اور عورتوں کے ملنے جلنے کے آداب ہیں۔ دوسری بات شریعت میں جو بتائی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ میاں اور بیوی کے مابین جو رشتہ قائم ہوتا ہے ، اس میں مرد کو ایک درجہ برتری حاصل ہے تاکہ گھر کا نظم و نسق چلایا جا سکے۔ پھر اس کے بعد طلاق اور نکاح کے معاملے میں حدود و اختیارات بتائے گئے ہیں، جس میں کچھ مردوں کے حقوق ہیں اور کچھ عورتوں کے حقوق ہیں۔ اس کے علاوہ باقی معاملات کو اللہ تعالیٰ نے انسانی تمدن پر چھوڑ دیا ہے۔ ان کے حالات کے لحاظ سے عورتیں اپنا کردار متعین کرتی ہیں۔ اور یہ کردار ایک تمدن میں مختلف ہو سکتا ہے اور دوسرے میں مختلف۔ تمدنی تبدیلیاں انسانی زندگی میں آتی رہتی ہیں۔ ہمارے ہاں جو عورتوں کا کردار اشرافیہ بیان کرتی رہی ہے، وہ تو صرف ان لوگوں کے ہاں تھا کہ جن کے ہاں پانچ سات ملازم ہوتے تھے۔ وہ عام خواتین کا کردار نہیں ہے۔ ہمارے دیہات میں عورتوں کو باہر نکل کر کام کرنا پڑتا تھا۔ کھیتوں میں جا کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا پڑتی تھیں۔ جانورں کو چارہ ڈالنا، ان کے لیے چارہ کاٹ کر لانا، دودھ دوہنا یہ تو کم و بیش عورتوں ہی کی ذمہ داری تھی۔ اس وجہ سے اس معاملے میں کوئی لگا بندھا اصول شریعت میں قائم نہیں کیا گیا۔ باقی تمام معاملات میں انسانوں کو آزادی دی گئی ہے۔ وہ اپنے حالات کے لحاظ سے اپنا کردار خود طے کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس وقت جو بعض چیزیں ہو رہی ہیں ، وہ اپنے اندر بعض اخلاقی قباحتیں رکھتی ہیں، بعض تمدنی نقصانات رکھتی ہیں، ان پر عقل کی روشنی میں بات کرنی چاہیے اور لوگوں کو اس کے بارے میں توجہ بھی دلانی چاہیے، لیکن شریعت کے حدود اتنے ہی ہیں جتنے بیان ہو چکے ہیں۔ یہ ملنے جلنے کے اور باہر نکلنے کے آداب ہیں، ان پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ عورت اپنے کاروبار کے لیے، اپنے معاملات کے لیے باہر جا سکتی ہیں۔ البتہ ان آداب کا انھیں ہر جگہ لحاظ کرنا چاہیے۔

جاوید احمد غامدی
ترتیب و تہذیب ، شاہد محمود


Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email


Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker