Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 ہوم > سوالات > معاشرتی مسائل
مینو << واپس قرطاس موضوعات نئے سوالات سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سوال پوچھیے  

مذہب اور ضعیف الاعتقادی
سوال پوچھنے والے کا نام .
تاریخ:  16 نومبر 2009  - ہٹس: 2148


سوال:
مذہب کے بارے میں عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ اس پر ایمان ایک اندھا عقیدہ ہے، کیا عقلی طور پر اس کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے اور یہ لوگوں کو عموماً ضعیف الاعتقاد کیوں بنا دیتا ہے؟

جواب:
اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ انسان کے ہاں اوہام کی صورت میں جو مذہبی اعتقادات ہیں، یہ کیسے پیدا ہوئے؟ یہ سب کے سب انسان کی ضعیف الاعتقادی سے پیدا ہوئے ہیں۔ کوئی بیماری آگئی، مصیبت آگئی، انسان کے اوپر کوئی حادثہ ٹوٹ پڑا۔ اس موقع پر انسان کمزور ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی شخصیت کا توازن مجروح ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات سے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب اوہام پر مبنی مذاہب پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اصل میں مشرکانہ مذاہب ہیں۔ جس میں کسی دیوی دیوتا یا سورج چاند کو معبود بنا لیا جاتا ہے۔ فطرت کی قوتوں کی پرستش کے جو احساسات اور جذبات انسان کے اندر پیدا ہوئے ہیں، یہ توحید کے تصور سے انحراف کے نتیجے میں آئے ہیں۔


نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت آج سے چودہ، پندرہ سو سال قبل ہوئی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انھوں نے توحید کی دعوت دی۔ قرآن مجید بھی توحید کی دعوت دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ ضعیف الاعتقادی مشرکانہ عقائد کے پیدا کرنے کا باعث بن گئی۔ یہی معاملہ اس سے پہلے کا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے جس مذہب کی ابتدا ہوئی وہ اسلام تھا، توحید تھی، ایک خدا پر ایمان تھا، لیکن بعد کے مراحل میں جب انسان اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے تھوڑے فاصلے پر ہوا تو اس کے نتیجے میں وہی ضعیف الاعتقادی غالب آگئی۔ اس وقت ہمارے پاس قرآن موجود ہے، احادیث موجود ہیں، توحید پر ایمان کی ایک عظیم روایت موجود ہے۔ اس کے باوجود عام لوگ ہر طرح کے مشرکانہ اوہام میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔


انبیا علیہم السلام کی بعثت اسی لیے ہوئی کہ انسان کے ان اعتقادات کے معاملے میں اسے متنبہ کیا جائے، وہم سے نکالا جائے، اسے توحید کا صحیح شعور دیا جائے اور اسے بلند کرکے پروردگار کے ساتھ متعلق کیا جائے۔ اگر انسان اللہ تعالیٰ کی اس پہلی ہدایت پر قائم رہ جاتا تو پے در پے پیغمبر بھیجنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ قرآن مجید نے یہی بات سورۂ بقرہ میں بیان کی ہے کہ: 'کَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً۔ '(البقرہ ٢:٢١٣) انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے توحید پر پیدا کیا ہے۔ وہ ایک ہی گروہ تھے، ان کے دین میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ پھر ارشاد ہوا کہ اس کے بعد وہ ان اوہام کا شکار ہوئے۔ 'فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیِّیْنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنذِرِیْنَ'(البقرہ ٢:٢١٣) پھر اللہ تعالیٰ نے نبیوں کا سلسلہ جاری کیا جو بشارت دینے اور خبردار کرنے کے لیے آئے۔ قرآن بھی اپنے نزول کا مقصد یہی بیان کرتا ہے کہ لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کر دے۔ دوسری جگہ بیان کیا: 'لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ' (حدید ٥٧:٢٥) تاکہ دین کے معاملے میں لوگ ٹھیک انصاف پر کھڑے ہو جائیں۔ یعنی انسان کو انحرافات سے نکال کر بالکل اس جگہ پر لے آیا جائے، جو انبیا علیہم السلام نے ان کے لیے متعین کی ہے۔



جاويد احمد غامدى

ترتيب و تہذيب ‘ شاہد محمود

(سوے حرم نومبر 2009 http://www.suayharam.org )


Counter Question Comment
You can post a counter question on the question above.
You may fill up the form below in English and it will be translated and answered in Urdu.
Title
Detail
Name
Email


Note: Your counter question must be related to the above question/answer.
Do not user this facility to post questions that are irrelevant or unrelated to the content matter of the above question/answer.
Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker