Author | Topic |
hkhan
UNITED KINGDOM
|
Topic initiated on Sunday, November 8, 2009 - 1:06 PM
حقيقت يا سياست
خبروںميں پہلے آٹا اور اب چيني نہ ملنے كي وجہ سمجھے كي كوشش ميں ہوں- كويي بتا سكتا ہے كہ اس طرح كے واقعات كا كيا مقصد ہے؟ |
|
Iwanttolearn
UNITED KINGDOM
|
Posted - Tuesday, November 24, 2009 - 3:59 PM
Appears to be part of bigger problem then an isolated one. We know there are several bigger problems not just one. imo. |
|
hkhan
UNITED KINGDOM
|
Posted - Wednesday, January 13, 2010 - 8:42 PM
وہاں چيني كي كمي اور يہاں آج كل نمك جيسي معمولي چيذ كي ~ حد سے بڑھي برف پگھلانے كے لييے- نہ جانے لوگوں كي آزمايش ہے يا مظلوموں كي بد دعاييں ؟؟ |
|
amtulrehman
PAKISTAN
|
Posted - Saturday, January 23, 2010 - 6:20 PM
يقينا يہ قدرت كي نشانيوں ميں سے ہے- اور انكھيں ركھنے والوں كے لييے عبرت بھي - اگر باہر كي كچھ طاقتيں ہمارے ملك ميں كچھ سياسي مقاصد كي بنا پر بي چيني (اور بے چيني ) پھيلانا چاہ رہي ہيں تو كوي بعيد نہيں كہ قدرت نے ان كو اس طرح توجہ كروايي ہو- |
|
isfi22
PAKISTAN
|
Posted - Saturday, May 22, 2010 - 10:47 AM
پہلی بات تو یہ سوال کچھ مبہم سا ہے؟ سوال کا تعلق ان خبروں کے مقصد کو جاننا ہے یا حقیقت کو، تاہم اپنا مشاہدہ اور راے عرض کیے دیتے ہیں: اصل میں اس طرح کے عجیب عجیب واقعات و احوال پاکستان کے اندرونی حالات کی ابتری کی روداد بیان کرتے ہیں۔ اس ملک کو بنے ہوئے چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے مگر نہ یہاں اسلام ہی آسکا ہے اور نہ ہی ترقی و خوش حالی کی عمومی صورتحال۔ اس طرح کے مسائل اور خبریں سیاسی دڑامے ہوں یا من گھرٹ افواہیں یا پھر بدنیت و ہوس باختہ درندہ صفت انسانوں کی پیدا کردہ غیر واقعی و غیر حقیقی صورتحال، تاہم یہ عوام پاکستان کی بدحالی اور ان کے حکمرانوں اور سربراہوں کی اپنے فرائض و ذمہ داریوں سے غفلت اور عوامی مشکلات کے معاملے میں حد درجے کی بے حسی کی علامت ہیں۔ دنیا میں عروج و ترقی اور ذلت و فلاکت سے دوچار کرنے کا اختیار حقیقتا اللہ رب العزت ہی کے ہاتھوں میں ہے لیکن اس نے اس دنیا کے لیے کچھ قوانین بنائے ہیں وہ معاملات یوں ہی الل ٹپ نہیں کرتا۔ ۔ ایک مسلمان قوم کو جہاں وہ اپنے دین سے اعراض برتنے اور اپنی کتاب و ہدایت سے منہ موڑنے کی سزا دنیوی بدحالی و بے کسی طاری کرنے کی صورت میں بھی دیتا ہے وہیں دنیا میں عروج و زوال کے کچھ دیگر مادی و اخلاقی اسباب و وجوہات بھی ہوتے ہیں۔ ترقی کے لیے مادی علم واجتماعی اخلاق کے پہلوؤں سے دوسروں سے ممتاز ہونا پڑتا ہے اور جو قوم و سماج ان پہلوؤں سے سے پسماندہ ہو اور دوسروں سے پیچھے رہ جائے، وہ بھی ہماری قوم کی طرح کی صورتحال سے دوچار ہوکر رہتے ہیں۔ ہم ان تمام پہلوؤں سے اگر جائزہ لیا جائے تو ایسے ہی انجام کے مستحق نظر آتے ہیں۔ نہ خدا کے ساتھ ہمارا معاملہ مخلصانہ ہے۔ اس کی کتاب و ہدایت اور دین کو ہم نے اپنی انفرادی و اجتماعی زندگیوں سے بری طرح دیس نکالا دیا ہوا ہے۔ پھر علم و اخلاق کے دائروں میں ہم بدترین و بھیانک ترین پستیوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد اگر ہمارے ساتھ یہ سب کچھ نہیں ہوگا تو پھر ایسا نہ ہونا ایک معجزے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ ہم اپنے کارناموں کی بدولت اسی عذاب و عتاب کے مستحق بن چکے ہیں۔ یہ ہمارے اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی اور پونجی ہے جو ہماری طرف لوٹائی جارہی ہے۔ اس لیے شکوہ اور شکایت اور احتجاج کرنا ہمیں زیب نہیں دیتا۔ ہمیں اگر کچھ زیب دیتا اور صورتحال کو بدلنے میں کارگر ہوسکتا ہے تو وہ اپنی غلطیوں کا شعوری اعتراف اور ان سے حقیقت پسندانہ رجوع ہے۔ ہمیں خدا کی طرف لوٹنا ہوگا، اس کے دین کو حقیقی روح کے ساتھ اپنانا ہوگا، مادی علوم اور انفرادی و اجتماعی اخلاق کے معاملے میں دوسروں سے ممتاز و فائق مقام پر پہنچنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ اس کے بعد امید نہیں بلکہ یقین ہے کہ ہمارے حالات ضرور بدل جائیں گے۔ |
|