Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
 
Page 1 of 1

  Reply to Topic    Printer Friendly 

AuthorTopic
raushan

UNITED ARAB EMIRATES
Topic initiated on Thursday, January 29, 2009  -  6:11 AM Reply with quote
ایف ایم چینل مبارک ہو,مبارک ہو


اس سامع کے بقول مولانا دوران قرآنی آیات اور احادیث پڑھنے کے بعد ان کا ترجمہ یا تشریح ’طالبان کی سوچ اور کارروائیوں‘ کے تناظر میں کرتے ہیں۔ مثلاً جب وہ کہتے ہیں کہ ’یا ایہی الکافرون‘ تو وہ اس کا ترجمہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’اے کافروں، اے پاکستانی فوجیوں، اے پولیس والو، اے ایف سی والو۔۔۔ اور ’یا ایہی المؤمنین‘ کا ترجمہ ’اے مومن طالبان‘ کرتے ہیں۔

رات کے ساڑھے سات سے دس بجے تک جاری رہنے والی نشریات چار حصوں یعنی درسِ قرآن، چندہ دینے والوں کا شکریہ، ’خوشخبریاں‘ سنانے اور دھمکیاں دینے پر مشتمل ہوتی ہیں۔

مذکورہ سامع کا کہنا ہے کہ مولانا شاہ دوران اسلامی تاریخ کے واقعات کچھ اس انداز سے پیش کرتے ہیں جس سے طالبان کی کارروائیاں، جیسے لوگوں کا سرقلم کرنا وغیرہ صحیح ثابت ہوسکے۔ ایک دفعہ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات تقریر کے بعد جب وہ ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ گئے تو انہوں نے ان سے ایک جہادی سی ڈی دیکھنے کی فرمائش کی اور بقول ان کے ’میں نے جب سی ڈی دیکھی تو اس میں ذبح کرنے کےاتنے خوبصورت خوبصورت مناظر تھے کہ مزہ آگیا۔‘

وہ اپنی تقریر کے دوران ملکی اور بین لاقوامی سطح پر تشدد کے ہونے والے بعض واقعات مزے لے کر بیان کرتے ہیں جس سے وہ خوشخبریوں کا نام دیتے ہیں۔


مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں ایف ایم چینل کے سننے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو یقین ہوگیا ہے کہ طالبان ایک قوت ہے اور وہ جو کہتے ہیں کرکے دکھاتے ہیں۔


یہ خبریں وہ ایک اخبار سے پڑھ کر سناتے ہیں۔ جیسے ایک بار انہوں نے کہا کہ ’زمبابوے میں بیماری پھیل گئی ہے سو افراد ہسپتال میں داخل، مبارک ہو مبارک! تھائی لینڈ میں ایک دھماکے میں چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں، مبارک مبارک! انڈیا میں بعض فوجی قتل، مبارک ہو مبارک! ڈیرہ اسماعیل خان میں بم دھماکہ چھ ہلاک، مبارک ہومبارک!‘
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2009/01/090128_swat_fm_radio_kakar.shtml
raushan

UNITED ARAB EMIRATES
Posted - Thursday, September 3, 2009  -  11:13 AM Reply with quote
ہمارے تو وہم و گمان میں ہی نہیں تھا کہ وہ ایک دن بندوق اٹھا کر حکومت کے خلاف لڑیں گے۔ جب سے ہم نے انہیں سونا دیا ہے تب سے ہم نےگھر میں خوشی کا ایک دن بھی نہیں دیکھا۔ فوجی کارروائی کے دوران جب گھر بار چھوڑ دیا تو برے دن کے لیے رکھے گئے سونے کی ضرورت پڑی مگر وہ ہمارے ساتھ نہیں تھا۔ روٹی کے لیے ترس گئے تھے۔ کبھی کسی سے کوئی روٹی لے لیتے تو کسی سے خوراک کی کسی اور چیز گھر لے آتے۔ اب بھی جب ہم خواتین آپس میں ملتے ہیں تو اس بات پر پشیمانی کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم نے انہیں کیوں اپنے زیوارات دی تھیں۔

وہ خواتین جنہوں نے اپنی زیورات نہیں دیے وہ اب جب بھی ہم سے ملتی ہیں تو طعنہ دیتے ہوئے کہتی ہیں ’فضل اللہ مو مبارک شہ‘ (تمہیں فضل اللہ مبارک ہو)۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/09/090903_war_stories_4.shtml

Reply to Topic    Printer Friendly
Jump To:

Page 1 of 1


Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker