Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
مینو << واپس ہوم نیۓ مضامین سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سب سے زیادہ ریٹ کیۓ جانے والے
شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جانا
مصنف:   پوسٹر: Kaukab Shehzad
ہٹس: 3301 ریٹنگ: 1 (1 ووٹ) تاثرات: 0 تادیخ اندراج:   2 نومبر 2005 اس مضمون کو ریٹ کریں

نبی کی ایک حدیث ہے جس میں آپ نے شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کو گھر سے نکلنے سے منع فرمایا ہے۔

عن بن عمر عن النبي أن امرأة أتته فقالت ما حق الزوج على امرأته فقال … لا تخرج من بيته إلا بإذنه (سنن البيهقي الكبرى رقم: 14490)

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپ فرمایا کہ ایک عورت حضور نبیۖ کے پاس آئی اور اس نے آپ سے پوچھا کہ شوہر کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟ حضور نے فرمایا کہ وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے با ہر نہ نکلے۔

یہاں اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ایک گھر کی مثال ایک ریاست کی سی ہے جہاں تمام شہریوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ملک کے قوانین اور اصولوں کی پابندی کریں گے۔ اور وہ اس اپنے ملک کے وفادار رہیں گے اور ان کا رویہ اپنی ریاست کے معاملات ہیں ہمیشہ مثبت رہے گا لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہ اس کی بنائی گئی پالیسیوں سے اختلاف رائے نہیں رکھ سکتے ان کا یہ جمہوری حق ہوتا ہے کہ وہ ملکی مفاد میں اگر کسی پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں تو اسے بیان کریں۔ اس طرح کا رویہ ملکی نظم وضبط کے لیے بہت ضروری ہے ورنہ انارکی فضا قائم ہوجاتی ہے۔ یہی معاملہ گھر کا بھی ہے ، اس نظم وضبط اور امن وامان قائم رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ گھر کے سربراہ کی اطاعت کی جائے۔ یہ اطاعت کسی جنس کی بنیاد پر نہیں ہوتی ، جس کے پاس اتھارٹی ہوگی اس کی اطاعت ضروری ہے۔ یہ ایک عمومی مشاہدے کی بات ہے کہ زندگی کے مختلف معاملات میں لوگوں میں مختلف صلاحیتیں پائی جاتی ہیں اور انصاف کا تقاضا ہوتا ہے کہ لوگوں میں ذمہ داریاں ان کی صلاحیتوں کے لحاظ سے تقسیم کی جائیں اور اگر کسی کو کسی منصب پر فائز کرنا ہے تو چاہے وہ مرد ہو یا عورت اس کو اس کی اہلیت کے مطابق مجاری دی جائے گی۔ قرآن مجید کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر کی ریاست کا سربراہ شوہر کو ہونا چاہیے کیونکہ گھر کو چلانے کی ذمہ داری شوہر کی ہے اور بیوی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس کی اطاعت کرے اس وجہ سے نہیں کہ مرد ایک برتر مخلوق ہے بلکہ اس لیے کہ سورۃ النساء کی آیت 34 کے مطابق مرد گھر کے معاملات کو بہتر انداز میں چلانے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر بیوی شوہر کی نسبت معاملات کو زیادہ سوجھ بوجھ سے چلانے کی اہلیت رکھتی ہے تو اسلام مرد کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ بیوی سے موافقانہ رویہ اختیار کرے۔

بہرحال اسلام بیوی کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ شوہر کے ساتھ موافقت و ہم آہنگی کا رویہ اختیار کرے اور شوہر کوہدایت کرتا ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو سکے اچھے طریقے سے اس کی ضروریات پوری کرے اور وہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ بیوی پر خواہ مخواہ کی پابندیاں نہ لگائے اور اس سلسلے میں وہ اللہ تعالی کے سامنے جواب دہ ہے۔ جہاں تک گھر سے نکلنے سے پہلے بیوی سے اجازت لینے کا تعلق ہے تو ضروری ہے کہ اس کے پس منظر کو سمجھ لیا جائے۔ عام حالات میں جب کہ میاں بیوی میں باہمی اعتماد ہوتا ہی اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ بیوی ہر مرتبہ گھر سے نکلنے سے پہلے شوہر سے اجازت لے البتہ خاص حالات میں جب شوہر یہ سمجھتا ہے کہ بیوی کا گھرسے نکلناگھر کے معاملات کو بگاڑ سکتا ہے تو وہ گھر کی ریاست کا سربراہ ہونے کے ناطے ان حالات میں گھر سے باہر نکلنے سے روک سکتا ہے اور گھر کے مفاد میں یہی ہے کہ بیوی گھر سے نکلتے وقت شوہر سے اجازت لے اور اگر شوہر بالا وجہ بیوی پر گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگاتا ہے تو وہ اپنے حقوق اور اللہ تعالی کے دیے ہوئے اختیارات کا غلط استعمال کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں بیوی اگر باغیانہ روش اختیار کرتی ہے تو اس کا ذمہ دار محض مرد ہوگا۔

شہزاد سليم
ترجمہ (كوكب شہزاد)

 
Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker