Powered by UITechs
Get password? Username Password
 
مینو << واپس ہوم نیۓ مضامین سب سے زیادہ پڑھے جانے والے سب سے زیادہ ریٹ کیۓ جانے والے
جمہوریت ، تعلیم اور کُرپشن ۔
مصنف: Javed Ahmad Ghamidi / Amjad Mustafa  پوسٹر: admin
ہٹس: 1616 ریٹنگ: 0 (0 ووٹ) تاثرات: 0 تادیخ اندراج:   29 نومبر 2010 اس مضمون کو ریٹ کریں

سوال : غامدی صاحب نے جمہوریت کی بات کی کہ جو جمہوریت پاکستان میں نہیں چلی۔ میں بھی اس پر یقین رکھتا ہوں کہ بہت سے مسایئل ہیں۔ لیکن میرا مشاہدہ ہے کہ پاکستان کا جو پڑھا لکھا طبقہ ہے وہ جمہوریت کا ابھی تک قائل نہیں ہے۔ اس لیے میری غامدی صاحب سے یہ تجویز ہوگی کہ جمہوريت کے بارے میں اپنے پروگرامز اور لیکچرز میں اس کے جو فوائد ہیں اس پہ زیادہ بات کی جائے۔ دوسرے ، جو ایک ایشو ہمارا ، جو غامدی صاحب تعلیم کے بارے میں کہتے ہیں۔ اس پہ بھی ہماری کوئي نمایاں شخصیت ابھی تک بطور راہنما اس اہم مشن کو لے کر آگے نہیں چلے۔ میں خود بھی ایک این۔ جی۔ او کا حصہ ہوں جو تعلیم میں کام کرتی ہے۔ تو میں غامدی صاحب سے یہ درخواست کروں گا ، اگر ممکن ہو کہ وہ اس مشن کو لے کر آگے بڑھیں۔ اور اس وقت لوگ ان کو بہت سنتے ہیں اور ان کی باتوں پہ یقین بھی رکھتے ہیں۔ اور تیسرا جو اس ملک کا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ وہ سب سے بڑی وجہ ہے ، جتنے بھی اس ملک کے مسائل ہیں ، جس میں کہ بلوچستان سے لے کر سرحد تک ، وہ ہے کُرپشن۔ اس ملک میں کرپشن اتنی زیادہ ہے اور میرا اپنا بھی مشاہدہ ہے کہ ہماری یہ جو ملٹری اور سِول بیوروکریسی ہے ، یہ سب سے زیادہ کُرپٹ ہیں۔ جب کہ ہمیشہ سیاست دانوں کی کرپشن کا تو بہت چرچہ کیا جاتا ہے لیکن ان کی کرپشن کو ابھی تک سامنے نہیں لایا جا سکا۔ تو میں چاہوں گا کہ اس کرپشن کو بھی سامنے لایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام کی اس کے بارے میں شعور بڑھے اور وہ اس کی روک تھام کے لیئے اقدام کر سکیں۔

غامدی صاحب : جمہوریت کے بارے میں ، اس میں شبہ نہیں ہے ، لوگوں کو بہت Educate کرنے کی ضرورت ہے۔ اصل میں ہمارے ہاں کچھ confusions ہیں جو لوگوں کے ہاں پائے جاتے ہیں اور ان میں سے ایک ایک کو لے کے اس کا جواب دینا چاہیئے۔ لوگوں کو غور کرنا چاہیئے کہ دورِ جدید میں آپ کوئی آمریت قائم کریں گے؟ یعنی آپ کے پاس choice کیا ہے ، انتخاب کیا ہے ؟ کوئی آدمی بندوق کے زور پر آپ پر حکومت کرے گا یا کوئی بادشاہت ہے ، خاندان ہے پاکستان کو یا کسی ملک کو فتح کر لیا ہے ، کیا طریقہ ہو گا ؟ لوگوں ہی کو آپ کو یہ موقع دینا پڑے گا کہ وہ اپنا نظمِ حکومت قائم کریں اور لوگوں ہی کی رائے سے اس کو چلایا جائے۔ اب یہ معاملہ دورِجدید میں بھی اختیار کر لیا گیا اور قرآنِ مجید نے بھی آج سے پندرہ صدی پہلے اسی کی تلقین کی۔ یعنی مسلمانوں کے بارے میں قرآن نے یہ اعلان کیا کہ ، ’’اَمرھُم شُوریٰ بینھُم‘‘۔ مسلمانوں کا نظمِ اجتماعی ان کی رائے پر مبنی ہوگا اور اس میں کوئی تخصیص نہیں کی۔ یعنی یہ بتایا کہ سب مسلمانوں کی رائے اس میں ہوگی۔ اس کا دورِ جدید میں یہ طریقہ اختیار کر لیا گیا ہے کہ لوگوں سے ووٹ لے لیتے ہیں ، آپ ان کی رائے لے لیتے ہیں۔ ان کے نمائندوں کا انتخاب کر لیتے ہیں اور ان کے ذریعے نظمِ اجتماعی کو چلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ ہے حکومت قائم کرنے کا ؟ اور وہ طریقہ ایسا ہے کہ جس سے کوئی خیر پیدا ہو سکتا ہے ؟ فرض کر لیجیئے کہ آپ بادشاہت قائم کر دیتے ہیں۔ تو کس اصول پر قائم کریں گے ؟ یعنی اس سے کس خیر کی توقع کی جا سکتی ہے ؟ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جہاں بادشاہت قائم ہوگی لوگوں کی رائے پر پابندی لگانی پڑے گی۔ ان کی لیڈر شِپ کو پیدا ہونے سے روکنا پڑے گا کیوں کہ ہر جگہ جہاں پر بادشاہت قائم ہوتی ہے ، سوائے اس کے کہ وہ آئینی بادشاہت کی صورت اختیار کرلے ، جیسے کہ برطانیہ میں اس نے کرلی تو وہاں تو جمہوریت ہے ، بادشاہت آئینی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اگر آپ بادشاہت کو آخری درجے میں حکم چلانے کا موقع دیں گے تو پھر تو نہ آپ جی سکتے ہیں ، نہ آپ اپنی رائے دے سکتے ہیں ، نہ رائے عامہ کو ہموار کر سکتے ہیں ، نہ غلطی پر تنبیہ کر سکتے ہیں۔ تو کیا چاہتے ہیں لوگ ؟ یعنی پہلے یہ فیصلہ کرنا چاہیئے نا۔ میرے نزدیک اس میں جو بحث کی جاتی ہے ، عام طور پر اسلام ، غیر اسلام کی ، وہ بھی میری کبھی سمجھ میں نہیں آسکی۔ یا تو شخصی حکومت ہوگی ، کسی فرد کے ہاتھ میں ہوگی۔ یا کوئی طبقہ ہوگا جو حکومت کررہا ہوگا۔ اور یا پھر جمہوری حکومت ہوگی۔ تو لوگ پہلے انتخاب کرکے بتائیں کہ کونسی حکومت چاہتے ہیں۔ ہم نے یہاں فوجی حکومتوں کو بھی دیکھ لیا۔ معلوم ہوا کہ لوگ آئے۔ انہوں نے بندوق کے زور پر قوم پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد کونسا خیر پیدا ہواہے۔ ہماری تو اپنی تاریخ دردانگیز تاریخ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صورتِ حال اتنی خراب ہو گئی ہے کہ جس کے بعد ایک مسئلے کو ہم دیکھتے ہیں تو اس سے دس مسئلے سر اٹھا رہے ہوتے ہیں۔

میزبان : آپ کا کہنا ، مختلف موقعوں پریہ رہا ، جو میں سمجھتا ہوں ، وہ یہ کہ تعلیم کے ساتھ اگر جمہوری عمل برقرار رہے ، تسلسل کے ساتھ تو پھر اس کا اصل پھل نظر آئے گا ورنہ نہیں۔
غامدی صاحب : تعلیم تو ناگزیر ہے جی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان جبلتوں کا پیرو نہیں ہے۔ انسان کو سمجھنا چاہیئے۔ انسان کوئی گدھا ہے یا گھوڑا ہے یا شیر ہے یا بکری ہے کہ جس جبلت پر خدا نے پیدا کیا ویسے کا ویسے ہی رہے گا۔ انسان کو خدا نے بنایا اس طریقے سے کہ وہ پالش ہوتا ہے ، تہذہب پاتا ہے ، اس کی ثقافت ترتیب پاتی ہے۔ یعنی انسان کا معاملہ یہ ہے۔ اس وجہ سے اس کو تعلیم سے آپ بیگانہ کریں تو یہ حیوان کی سطح پر چلا جائے گا۔ تعلیم ضروری ہے ، جتنی تعلیم بڑھے گی اسی لحاظ سے اس کا آپ کے اجتماعی نظام میں ظہور ہوگا۔ تعلیم جس طرح مذہب کی آپ دیں گے اسی طریقے سے آپ دنیا کی دوسری چیزوں کی دیں گے۔ ہمارے ہاں مذہب کی بھی تعلیم نہیں دی گئی ، یعنی مذہب سوسائٹی سکھاتی ہے اور اس کا پابند کرنے کی کوشش کرتی ہے ، educate کرنا پھر بھی نہیں ، کچھ معلومات دے دیتی ہے۔

میزبان : یہ جو کرپشن بھی ہمارے ہاں شامل ہو گئی ہے سارے مسئلے کے اندر ، ایک اور پوائنٹ پیچیدہ ہے۔
غامدی صاحب : اخلاقی انحطاط ہے نا۔ دیکھیئے بات یہ ہے کہ دونوں ہی چیزیں کسی قوم کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہوتی ہیں۔ ایک تعلیم اور دوسرا اخلاقی زوال۔ اگر تعلیم میں کمی ہے ، جہالت ہے تو اس کے نتیجے میں کوئی قوم نہیں اُٹھ سکتی۔ اور اگر اس کے ہاں اخلاقی اقدار پامال ہو گئی ہیں ، کیونکہ انسان ایک اخلاقی وجود ہے ، تو اگر اخلاقی اقدار پامال ہو گئی ہیں ، کرپشن ظاہر ہے اسی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ہمارے ہر ادارے میں داخل ہو چکی ہے۔ یعنی آپ عدلیہ کے بارے میں بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ پاک ہے۔ جس ادارے کو سب سے بڑھ کر پاک ہونا چاہیئے۔ ہر جگہ اس کا احساس پایا جاتا ہے۔ چیف جسٹس بار بار اس کی طرف تو ّجہ دلا رہے ہیں۔ ایک آدمی جو جج کے منصب پر بیٹھا ہؤا ہے اس کے بارے میں بھی آپ یہ توقع نہیں کر سکتے کہ وہ اس طرح کی چیزوں کے بارے میں حساس ہو گا یا وہ اپنے کردار کا یا وہ اپنی سیرت کا خیال رکھے گا۔ بلکہ وہ اپنے منصب کو ہی استعمال کرکے یہ چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ روپیہ کما لے۔ تو یہ صورتِ حال بدترین صورت حال ہے۔ تعلیم کے بارے میں بھی انہوں نے خاص طور پر مجھے تو ّجہ دلائی ہے تو میں یہ عرض کرتا ہوں کہ دیکھیئے بات یہ ہے کہ میں چونکہ خالص علمی کام کرنے والا آدمی ہوں تو اس وجہ سے مجھے اگر کسی چیز کو عملی سطح پر لینا ہے تو اس کے لیے ایسے دست و بازو چاہئیں کہ جو اس کی عملی ذمہ داریوں کو اٹھا سکیں۔ بدقسمتی سے وہ میسّر نہیں ہوسکے۔ تو اس وجہ سے میں فکر کی سطح پر تو ایک بات کہتا ہوں۔ اگر کچھ لوگ آگے بڑھیں اور آگے بڑھ کر اس چیز کو کرنے کے لیے تیار ہو جائیں تو میں بھی اس میں بہت کچھ خدمت کر سکتا ہوں۔ کرنے کا کام ہی یہی ہے۔ یعنی کرنے کا کام ہی یہی ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ اگر اس قوم کی کوئی حقیقی خدمت کی جا سکتی ہے تو وہ تعلیم ہے۔ اور میں تو کہتا ہوں کہ دوسری چیز کا انحصار بھی اس پر ہے جس کو انہوں نے کرپشن سے تعبیر کیا ہے۔ تعلیم اگر واقعی صحیح معنوں میں ہوگی اور وہ انسانی سوسائٹی کی تہذیبِ نفس کے نصب العین کو سامنے رکھ کر ہو گی تو وہ کرپشن کے خاتمے کا ذریعہ بھی بن جائے گی۔ آپ مغربی اقوام میں دیکھ لیجیئے یعنی وہاں صرف اچھی تعلیم نے یہ چیز بھی پیدا کردی ان کے اندر ۔

میزبان : اور ایک مجموعی سماجی تبدیلی سے بھی بہت فرق پڑتا ہے ۔
غامدی صاحب : اس میں کوئی شک نہیں ، گِرد و پیش کا ماحول اصل میں کسی چیز کے خلاف جب نفرت پیدا کر دیتا ہے تو آسان نہیں ہوتا آدمی کے لیے جینا۔ ہماری سوسائٹی میں یہ چیز ختم ہو گئی ہے۔ یہاں اصلی قدر دولت بن گئی ہے اور وہ آدمی کے پاس کسی بھی ذریعے سے آئی ہو وہ اپنے لیے عزت کے مواقع پیدا کر لیتا ہے۔


 
Share |


Copyright Studying-Islam © 2003-7  | Privacy Policy  | Code of Conduct  | An Affiliate of Al-Mawrid Institute of Islamic Sciences ®
Top    





eXTReMe Tracker